طوطے کی ذہانت یا دکاندار کی چالاکی؟
ایک آدمی نے دکان سے ایک بولنے والا طوطا خریدا۔ دکاندار نے کہا: "یہ بہت ہوشیار ہے، ہر بات کا جواب دیتا ہے۔"
آدمی اسے گھر لے آیا۔ اس نے طوطے سے گھنٹوں باتیں کیں، لیکن طوطا ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ آدمی غصے میں واپس دکان پر گیا۔
اس نے شکایت کی: "تم نے جھوٹ بولا تھا، یہ تو بالکل نہیں بولتا!" دکاندار نے پوچھا: "کیا اس نے میری دی ہوئی خوراک کھائی؟"
آدمی نے کہا "نہیں"۔ دکاندار بولا: "بس یہی مسئلہ ہے! یہ تب بولتا ہے جب اس کا پیٹ بھرا ہو، اور خاموش تب ہوتا ہے جب بھوک لگی ہو!"